قابلِ رسائی اورملٹی لنگول ٹیکنالوجی کی تعمیر کے ذریعے ڈیجیٹل علیحدگی کا خاتمہ

6 February 2026

Read this post in Bangla →

Read this post in Hindi →

Read this post in English →

Authors: Subhashish Panigrahi, Maari Zwick-Maitreyi, Claudia P.

Translated by: Munira Zoomkawala and Syed Muzammiluddin

انٹرنیٹ ہمیں وسیع پیمانے پر جوڑ چکا ہے، جس کی وجہ سے معلومات اور اہم خدمات کو لوگوں تک پہنچانے کا کام آسان ہوگیا ہے. . بدقسمتی سے, تقریببًا 15 فیصد ایشیا پیسیفک کی آبادی ( 4.8 بلین افراد میں سے 700 ملین) اپنی معذوریوں کی بنا پر ان لوگوں میں شامل نہیں ہیں۔۔ آنکھوں سے معذور افراد انگریزی اور دوسرے غیر یورو نو آبادیاتی زبانیں نہ بولنے کی وجہ سے ، آج تک ان خدمات سے محروم ہیں. اس کی کئی وجوہات ہیں ,جیسےکہ درکار فارمیٹ کی عدم دستیابی ، مقامی انداز پیشکش کی ناقصی ,،اور ٹیکنالوجی کی مہنگائی . ۔ یہیں پر ‘رسائی ، زبان اور عوامی ٹیکنالوجی'(Accessibility, Language, and Tech for the People) ( مختصراً ALT) ، ایک عملی تحقیقی طریقہ کار کے طور پر میدان میں آتا ہے. بنیادی سطح پر یہ آنکھوں کی بینائی سے معذور افراد کی آن لائن وابستگی کو بڑھانے اور ان کے تجربوں کو بہتر بنانے کا کام کرتی ہے. ان میں ڈیجیٹل معلومات کے صارفین اور پروڈیوسر دونوں شامل ہیں. آلٹ منصوبہ زبان اور معذوروں کے حقوق کے انٹرسیکشن کو پہچانتے ہوے ان دونوں کے بیچ کے خلا کو دور کرنے کے لئےبھی کوشاں ہے. یہ طریقہ عمل خاص طور پر جنوبی ایشیا کے علاقہ پر مرکوز ہے، جو 650 زبانوں اور 204 سے 306 ملین معذور افراد کا گھر ہے۔ ہماری یہ پہل ان نابینا افراد کے لئے ہے جو بھارت میں ہندی اور بنگلہ,، بنگلہ دیش میں بنگلہ اور پاکستان میں اردو بولتے ہیں ۔

یہ کیوں اہم ہے؟

اگرچہ دنیا کے 75 فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین اکثریتی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، پھر بھی اپنی علاقائی زبانوں میں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنا اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنا ایک چیلنج ہے۔ یہ مسئلہ آنکھوں سے معذور افراد کے لیے مزید سنگین ہو جاتا ہے، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہتحقیقی وعملی منصوبہ کی خدمات کسی بھی کمیونٹی کی باہمی تخلیق، باہمی قیادت، اور مشترکہ تصنیف پر زور دیتے ہوئے انہی کمیونٹیز کی ضروریات اور آوازوں کے مطابق چلتا ہے.

یہ بلاگ آلٹ منصوبہ کے تحقیقی و عملی منصوبہ کے اراکین کے ابتدائی مشاہدات اور تجربات کو شیئر کرتے ہوے اُن اہم چیلنجز کا جائزہ کرتا ہے جو انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت اپنی منتخب زبانوں میں انہیں پیش آتے ہیں. ساتھ ساتھ ان کی بہتری کے امکانات کو بھی اُجاگرکرتا ہے .

ڈیجیٹل رسائی میں بنیادی رکاوٹوں کا جائزہ

ڈیجیٹل رسائی میں ایک اہم رکاوٹ قابلِ رسائی ہونےاور قابلِ استعمال ہونے کے درمیان فرق ہے۔ بعض اوقات ٹیکنالوجی تکنیکی طور پر تو قابلِ رسائی ہوتی ہے، مگر اسے استعمال کرنا آسان نہیں ہوتا — خاص طور پر اُن افراد کے لیے جوآنکھوں سے معذور ہیں، جس سے اُن کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ بھارت میں آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد کے اوپن نالج اینیشئیٹیوز پروگرام کی سینئر ریسرچ مینیجر سنیہا (جو خود آنکھوں کی بینائی سے محروم نہیں)، کہتی ہیں: “ڈیجیٹل آلات کی قابلِ رسائی حیثیت کو ایک الگمسئلے کے طور پرسمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف رسائی کے دائرے میں ہونا اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ کوئی چیز استعمال میں آسان، فوراً دستیاب، یا تربیت یا تبدیلی کے بغیر اپنائی جا سکے۔ اس کے بر عکس اگر کوئی ٹیکنالوجی استعمال کے قابل تو ہو مگر قابلِ رسائی نہ ہو، تو یہ معذور افراد کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔” اسی خیال کی تائید سکشم – اسسٹیک لیب (آئی آئی ٹی، دہلی) کے ماسٹر ٹرینر اروِند شرمابھی کرتے ہیں. یہ ایک ایسا مشترکہ منصوبہ ہے جو معذور افراد کو امدادی ٹیکنالوجیز(Assistive Technologies)
کے ذریعے پڑھنا، لکھنا، اور ڈیجیٹل خواندگی حاصل کرنا سکھاتا ہے۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں: “مواد تک تو رسائی موجود ہے، مگر معلومات لوگوں تک اصل شکل میں نہیں پہنچ پاتیں۔”

زبان اور مقامی مواد کا معیار ایک اور بڑی رکاوٹ پیش کرتے ہیں۔ کئی تکنیکی حل اور پلیٹ فارم انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں کی معاونت سے محروم ہیں، جس کے باعث انگریزی نہ بولنے والوں کے لیے گہری مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی روڈز اسکالر اور پاکستان میں رسائی اور شمولیت کی وکالت کرنے والی خنساء ماریہ کہتی ہیں: ’’دیگر زبانوں کے برعکس، ہمارے پاس زیادہ تکنیکی حل موجود نہیں اسی لیے انگریزی ہی میری ٹیکنالوجی کے استعمال کی اصل زبان ہے۔‘‘ مزید یہ کہ مقامی ڈیجیٹل مواد کا معیار اکثر ناقص ہوتا ہے اور مشینی ترجمے کے آلات عموماً غیرمؤثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بھارت کی جادَو پور یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور زبان و رسائی کے کارکن ایشان مشاہدہ کرتے ہیں: ’’دستیاب مشینی ترجمے کی سہولتیں ناقص طور پر تیار کی گئی ہیں، اسی لیے ان کے ترجمے بھی غیر معیاری ہوتے ہیں۔‘‘ اسی طرح، بنگلہ دیش میں ترقی،آن لائن رسائی، اور معذور افراد کے لیے معلوماتی رسائی کے ماہر مشیر وشکر بنگلہ زبان میں در پیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں: ’’قابلِ رسائی مواد کی کمی بنگلہ زبان میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ، معیاری کی بورڈز کی کمی زبان کے اندراج کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی پرانے فونٹس استعمال کرتے ہیں جو یونیکوڈ(Unicode) معیار سے پہلے کے ہیں، جنہیں اسکرین ریڈرز پڑھ نہیں سکتے۔ نابینا افراد ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔‘‘

راہُل بجاج، ایک وکیل اور “مشن ایکسیسبلٹی” (Mission Accessibility)
کے شریک بانی, بھارت میں آنکھوں سے معذور صارفین کو در پیش مشکلات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے اس اہم رکاوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکرین ریڈرز ہندی زبان کے مواد سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’سب سے بڑی رکاوٹ جس کا میں خود سامنا کرتا ہوں، اور جو میں جانتا ہوں کہ دوسروں کے لیے بھی چیلنج ہے، وہ یہ ہے کہ اسکرین ریڈر ہندی زبان کے مواد کے ساتھ آسانی سے مطابقت نہیں پیدا کر پاتے۔‘‘ یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب آلات پر ہندی آوازوں تک رسائی حاصل کرنا اور ان کے درمیان بآسانی تبدیلی کرنا مشکل ثابت ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کی ہندی مواد سےمکمّل طور پر مشغول ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

تکنیکی فارمیٹ اور ڈیجیٹل مواد کی نوعیت اکثر رسائی میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ ناقابلِ رسائی پی ڈی ایف فائلیں، پرانے فونٹس، اور تصویری عناصر جن کے ساتھ متبادل ٹیکسٹ (alt text) موجود نہیں ہوں، اسکرین ریڈر کے مؤثر استعمال میں دخل ڈالتے ہیں اور صارفین کو صحیح طرح سے مطالعہ کرنے اور معلومات کو سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اروِند نشاندہی کرتے ہیں: ’’جب پی ڈی ایف کو قابلِ رسائی انداز میں تیار نہیں کیا جاتا تو ہمارا اسکرین ریڈر سافٹ ویئر اسے پڑھ نہیں پاتا۔‘‘ بھارت سے تعلق رکھنے والی معذور نسوانیت پسند ، محقق, معلمہ اور مصنفہ سرینِدھی بھی یہی واضح کرتی ہیں کہ اسکرین ریڈر استعمال کرنے والے افراد مواد کو “سرسری طور پر پڑھنے کے بجائے “لائن در لائن” پڑھنےپر مجبور ہوجاتے ہیں, جس سے معلومات کے سمجھنے اور تجزیے کے عمل پر اثر ہوتا ہے۔

جیسا کہ ڈیجیٹل رسائی اور معذوری سے متعلق ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبے میں پالیسی اور تحقیق پر کام کرنے والی ںنِرمیتا بتاتی ہیں, بطور طالبہ انہیں تمل زبان کے مواد تک رسائی حاصل کرنے میں کِن کِن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ موسیقی کی تعلیم حاصل کرتے ہوۓ وہ تمل اور سنسکرت جیسی بھارتی زبانوں میں موجود گیتوں، مخطوطات (manuscripts), اور سرناموں (notations)
تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں، اور انہیں صرف انگریزی کتابوں میں دستیاب معلومات پر انحصار کرنا پڑا۔ وہ نشان دہی کرتی ہیں کہ اگرچہ ترجمے اور دیگر ایپس دستیاب ہیں، لیکن ہندی یا دیگر بھارتی زبانوں میں مواد تاحال منصفانہ طور پر دستیاب نہیں ہے، کیونکہ ترجمے ناقص ہیں, تکنیکی امداد ناکافی ہے ، اورفونٹس پڑھنے کہ قابل نہیں. ، ای اسپیک (e-Speak) جیسی مصنوعی آوازوں کو مختلف زبانوں میں سمجھنا بھی بہت سے صارفین کے لیے مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان کی آواز غیر فطری اور انگریزی لہجے میں ہوتی ہے۔چنانچہ ,انگریزی نہ بولنے والوں کے لئے یہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نرمیتا اس بات پر زور دیتی ہیں کہ لوگوں کو مؤثر طور پر ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور ڈیجیٹل دنیا میں راستہ تلاش کرنے کے لیے تربیت اور مسلسل معاونت فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ روزمرہ زندگی کے لیے قابلِ رسائی حل فروغ پا سکیں۔ وہ کہتی ہیں: “قابلِ رسائی حل کی بات کی جائے تو میں سب سے زیادہ اپنا اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتی ہوں۔ کمپیوٹر یا فون پر این وی ڈی اے (NVDA) لینگویج پیکس انسٹال کرنا آنکھوں سے معذوران انسانوں کے لیے ایک بہت ہی طاقتور حل ثابت ہو سکتا ہے، جو انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مواد اور خدمات کو اپنی علاقائی زبان میں رسائی حاصل کرنا چاہتے ہوں۔”

معاون ٹیکنالوجی (Assistive Technology) کی قیمت، اُس تک عام رسائی کی کمی، اور دستیاب حلوں کے بارے میں مہارت او ر آگاہی کا عمومًا نہ ہونا مِل کر ایک بڑی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ خنساء کہتی ہیں: ’’مجھے یہ باتبےحد ناپسند ہے کہ معاون ٹیکنالوجی اتنی مہنگی ہے۔‘‘ وشکر اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ نابینا افراد عموماً ٹیکنالوجی کے استعمال میں کم مہارت رکھتے ہیں اور ان کے پاس دستیاب خدمات کے بارے میں مناسب معلومات نہیں ہوتیں ۔ ایشان مزید اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور آلات تک رسائی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں جو فی الحال ان ٹیکنالوجیز سے وابستہ نہیں۔ درحقیقت، ٹیکنالوجی تک رسائی اکثر سماجی مراعات سے جڑی ہوتی ہے۔ ایشان مشاہدہ کرتے ہیں کہ برصغیر کے کئی نابینا افراد، جو پس ماندگی کے شکار طبقات، ذات پات یا دیگر سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، ٹیکنالوجی کے فوائد سے مکمل طور پر محروم رہ جاتے ہیں۔

قابلِ رسائی ٹیکنالوجی کے امکانات

مختلف لوگوں کے انٹرویو سے یہ تصوّر سامنےآتا ہے کہ حقیقی رسائی اور خود مختاری کی طرف جانے کا راستہ ٹیکنالوجی اور کمیونٹی کے مِلاپ پر مبنی ہے۔ معاون ٹیکنالوجی بااختیار بننے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جیسا کہ اروِند نے واضح کیا: ’’ہمارا اسکرین ریڈر ہمیں سب کچھ بتاتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’’مجھے یہ بہت پسند ہے، یہ ایک طاقتور ایجاد ہے۔ اس نے ہماری زندگیوں کو آزاد کر دیا ہے۔ آپ اسکرین ریڈر کے ذریعے ہندی مواد تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ اسنیہا جسمانی سہولتوں اور ڈیجیٹل رسائی کے درمیان مماثلت قائم کرنے کی تجویز دیتی ہیں، جیسے تصویری وضاحت یا متبادل ٹیکسٹ شامل کرنا، رنگوں کا تضاد واضح رکھنا، اور ایسی زبان استعمال کرنا جوآنکھوں سے معذور افراد کے لیے انٹرنیٹ کو زیادہ قابلِ استعمال بنا سکے۔ خنساء رسائی کو وسیع کرنے اور خود مختاری بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے ایسی کمیونٹی کی جگہیں بنائی جائیں جہاں علم کے تبادلے، وکالت، اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ وہ کہتی ہیں: ’’ہمارے پاس علم کی کوئی کمی نہیں ہے اور بہت سے لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا پلیٹ فارم بنائیں جہاں یہ علم کمیونٹی کے اندر سے ابھر کر سامنے آئے، تو ہم مل کر آپس میں مسائل کا حل نکال سکتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکتے ہیں، وکالت کر سکتے ہیں، وسائل اور جگہیں بانٹ سکتے ہیں۔ جب ٹیکنالوجی مایوس کن محسوس ہو، تو ہمیں اکٹھے ہونا چاہیے اور مشترکہ طور پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔‘‘

وشکر اسپِیچ ٹو ٹیکسٹ ( آواز کو ٹائپ شدہ شکل دینے کی سہولت) اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کے عملی فوائد پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں: ’’اسپِیچ ٹو ٹیکسٹ کی مدد سے میں بول کر آسانی سے ٹائپ کر سکتا ہوں۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا حل ہے۔ ایک قابلِ رسائی حل لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب اشیاء اور انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس سے روزمرہ کی سہولت میں بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ وشکر کا خواب ہےکہ ایک ایسا واحد پلیٹ فارم ہو،جو مکمل طور پر قابلِ رسائی ہو, اورجو ہر ضرورت کو پورا کر سکے۔

اگرچہ سرینِدھی خود آنکھوں سے معذور نہیں ہیں، لیکن وہ او سی آر اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کی تصویری وضاحتوں میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’’اب او سی آر پہلے سے کہیں بہتر ہو چکا ہے— یہاں تک کہ تین سال پہلے کے مقابلے میں بھی۔ اب چیٹ جی پی ٹی، فیس بک کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصویری وضاحتیں لکھتا ہے۔‘‘ تاہم وہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبے میں معذوری کے تجربات کو زیادہ باریکی سے سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ ان کے مطابق: ’’صرف چند ہی لوگ ایسے ہیں جو معذوری کے تجربات کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ بہت سے پہلوؤں میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) نے معذور افراد، خاص طور پر نابینا افراد کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے۔‘‘

ایشان یوٹیوب جیسے پلیٹ فارموں کے رول پر روشنی ڈالتے ہیں اور دستیاب آڈیو بُکس کی بھر مار پر زور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’یوٹیوب نے ایک انقلاب برپا کیا ہے، جس کی بدولت صارفین کو مختلف نوعیت کے سننے اور دیکھنے کےمواد کی تخلیق کی اجازت مل گئی ، جن میں آڈیو بُکس بھی شامل ہیں۔‘‘ وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بنگلہ میں معذوری سے متعلق وکالت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال مسلسل جاری ہے، اور وہ عملی بہتریوں، جیسے ویڈیو مواد میں سرخیاں (captions) یا صوتی وضاحتیں (audio descriptions) شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

نِرمیتا نے ٹیکنالوجی کی بااختیار بنانے والی صلاحیتوں پر بھی زور دیا۔ این وی ڈی اے کی صلاحیت والے اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس کو وہ ’’طاقتور حل‘‘ قرار دیتی ہیں، جو خود مختاری اور گذر بسر کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ آلات آنکھوں کی معذوری کے شکار افراد کو معلومات تک رسائی، کام کرنے, اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے الیکسا (Alexa)
کے استعمال کا بھی ذکر کیا، جسے وہ یاد دہانیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں ۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ آواز سے چلنے والی ٹیکنالوجی روزمرہ کے امور میں کتنی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔بعض حدود کو مد نظررکھ کر ،خصوصاً انگریزی زبان کو مرکزی نوعیت دینے والے حلوں کو تسلیم کرتے ہوئے نرمیتا کا تجربہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی مختلف شعبوں میں شرکت کے مواقع بڑھا کر زندگی کی کئی کمیوں کو پورا کر سکتی ہے۔

آئندہ کے لیےمستحکم ہندی ٹیکسٹ ٹو اسپیچ حلوں کی تیاری نہایت اہم ہے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں رواں اور بامعنی شمولیت ممکن ہو سکے۔ جیسا کہ راہُل زور دیتے ہیں:
“ہمیں ایسے معیاری ہندی ٹیکسٹ ٹو اسپیچ حل درکار ہیں جو فون اور کمپیوٹر، دونوں پر آسانی سے نصب کیے جا سکیں اور جب بھی انگریزی سے ہندی مواد پر آئیں تو خودبخود زبان تبدیل ہو جائے،تاکہ کوئی دشواری نہ پیش آئے …” اس قسم کی پیش رفت بینائی سے محروم ہندی بولنے والوں کے آن لائن تجربوں کو کافی حد تک بہتر بنائیں گی اور رکاوٹوں میں خاطر خواہ کمی لائیں گی۔

آگے کی راہ

انٹرنیٹ میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، مگر ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے خود مختاری اور وقار پانے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ابھی دور ہے ۔ جنوبی ایشیا میں آنکھوں کی معذوری کے شکار 6 کروڑ 12 لاکھ افراد ان چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، مگر انگریزی یادیگر یورپی نوآبادیاتی زبان نہ بولنے والے لوگ ، مزید نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ زیرِ بحث رکاوٹوں میں یونیکوڈ کے ساتھ عدم تعمیل , جنوبی ایشیائی رسم الخط میں پی ڈی ایف فائلوں کی ناقص رسائی، تحریری ٹیکسٹ کی وضاحتوں کی کمی، بنیادی استعمال کی دشواریاں، زبان کی ناکافی امداد ، تکنیکی فارمیٹنگ کے مسائل، معاون ٹیکنالوجی کی بلند لاگت، تربیت، اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق پروگراموں کی کمی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک پیچیدہ جال تشکیل دیتے ہیں، جسے فوری توجہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔
ان رکاوٹوں کو پہچاننا اور سمجھنا انہیں ختم کرنے کی پہلی اور بنیادی کڑی ہے۔ جیسا کہ مختلف لوگوں کے انٹرویو سے پتہ چلا ہے، ان رکاوٹوں کو دور کر کے ہی ڈیجیٹل دنیا سب کے لیے واقعی مساوی اور جامع بن سکتی ہے جہاں زبان، صلاحیت یا معاشی پس منظر کسی کے لیے بھی رکاوٹ نہ بنے۔

انٹرویو دینے والوں کا اہم کردار اور ان کے بصیرت افروز خیالات ترقی کے لیے ایک نقشۂ راہ پیش کرتے ہیں — جس میں قابلِ رسائی ٹیکنالوجی، اسکرین ریڈرز، اسپِیچ ٹو ٹیکسٹ، مصنوعی ذہانت پر مبنی اوزار، اور یوٹیوب جیسے آن لائن مواد کے تبادلے کے پلیٹ فارم شامل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف فریق ان رسائی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات لیں قطع نظر اس کے کہ ان مسائل کی نوعیت کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ اسی لیے ایک کمیونٹی پر مبنی اور مشترکہ وکالت کی کوشش ناگزیر ہے، تاکہ ان رکاوٹوں کے ازالے کا مطالبہ مؤثر انداز میں کیا جا سکے۔ آلٹ منصوبہ کا مقصد بنگلہ، ہندی اور اردو بولنے والے آنکھوں سے معذور صارفین کو در پیش اہم مسائل کو دستاویزی شکل دینا ہے، تاکہ یہ کام بنیادی سطح پر ہونے والی کمیونٹی وکالت کی حمایت کر سکے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں — بلکہ یہ اختیارات کی تقسیم، علم، انصاف، اور آنکھوں سے معذور افراد کی مکمل ڈیجیٹل شمولیت کے بارے میں ہے ۔ ہمارے شریکِ کار پہلے ہی ان طاقت کے ڈھانچوں کو چیلنج کر رہے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ انہیں مزید شواہد پر مبنی وسائل میسر ہونگے، جن کے ذریعے وہ رسائی کے حق کا مطالبہ کر سکیں ۔ آلٹ منصوبہ سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کے لیے 2026 ء میں ہمارے ساتھ جڑے رہیے!

نوٹ: وضاحت کے پیشِ نظر بعض اقتباسات میں معمولی ترمیم کی گئی ہے۔

سوانح

اروِند شرما سَکشم اور اسِسٹیک لیب، آئی آئی ٹی دِلی کے اشتراک سے بطور ماسٹر ٹرینر کام کرتے ہیں۔ وہ معذور افراد کو امدادی ٹیکنالوجیز (Assistive Technologies) کے ذریعے پڑھنا، لکھنا، اور ڈیجیٹل خواندگی حاصل کرنا سکھاتے ہیں۔

کلاؤڈیا پوزو “ہوز نالج؟” کے ساتھ تحقیق اور کوآرڈینیشن کا کام کرتی ہیں۔ وہ آن لائن علم اور معرفتی انصاف (Epistemic Justice) کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔

ایشان چکرورتی شعبہٗ انگریزی، جا دوپور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ زبان اور رسائی کے لیے ایک سرگرم کارکن بھی ہیں۔

خنساء ماریہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں روڈز اسکالر ہیں۔ وہ معذوری سے متعلق مشیر اور رسائی اور شمولیت کی وکالت کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔

مَاری مَیتریئی “ہوز نالج؟” کے ساتھ تحقیق اورکوآرڈینیشن کا کام کرتی ہیں . وہ آن لائن علم اور معرفتی انصاف (Epistemic Justice) کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

نِرمِیتا نرسمہن پالیسی سازی پر تحقیق اور وکالت کے شعبے میں کام کرتی ہیں، ان کا کام خاص طور پر فکری املاک (Intellectual Property) میں اصلاحات اور معذور افراد کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کے متعلق ہوتا ہے.

پُتھیا پُرایِیل اسنیہا انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، حیدرآباد کے راج ریڈی سینٹر فار ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی میں سینئر ریسرچ مینیجر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

راہُل بجاج مشن ایکسیسبیلیٹی (Mission Accessibility) کے شریک بانی ہیں۔

سبھاشیش پانیگراہی غیر منافع بخش معاملوں میں رہنما ہیں جن کا پس منظر سماجی پہل کاری، ڈیجیٹل حقوق، کمیونٹی سازی، اور لسانی ٹیکنالوجی سے وابستگی ہے۔

سرینِدھی راگھون ایک معذور نسوانیت پسند، محقق خاتون، معلمہ اور مصنفہ ہیں جو جنسیت،

صنف، معذوری، اور ٹیکنالوجی سے جڑے امور پر کام کرتی ہیں۔

وشکر بھٹاچارجی آئی سی ٹیز فار ڈیولپمنٹ (ICTs for Development)،ای ایکسسیسبلٹی اور معذور افراد کے لیے معلومات کی فراہمی کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔

Related Posts

Author Profile